بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو سیمینار کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔
ذیل میں، نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے سیاسی سائنسدان اور بنگلہ دیش کی "ڈیفوڈل انٹرنیشنل یونیورسٹی" (Daffodil International University) کے پروفیسر "گِریگ سائمنز" (Greg Simons) کی تقریر متن پیش کیا جا رہا ہے۔
گریگ سائمنز:
۔۔۔۔۔ اب پوچھتے ہیں کہ یہ مسئلہ حالیہ واقعات کے تناظر میں کیسے لگتا ہے؟ یہ وہ کاروائیاں ہیں جنہیں "[تھامس] والڈمین" "پراکسی [نیابتی] جنگ" کا نام دیتا ہے (یعنی مخالفین کے خلاف فوجی اور سیاسی کارروائیوں کا بالواسطہ اور خفیہ استعمال) ان کاروائیوں نے انہیں کمزور کر دیا ہے۔ آپ ان جنگوں کے نتائج بھی دیکھ رہے ہیں: امریکی فوج اب، مزید اتنی تعداد میں نفری بھرتی کرنے سے عاجز ہے جو غیر ملکی سرزمینوں پر لامتناہی جنگوں میں بلاوجہ مرنے کے لئے تیار ہوں۔ لہٰذا، میری معلومات کے مطابق، امریکی فوج کی بھرتیوں میں کم از کم 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ سب کھوئی ہوئی دولت ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے: اگر ہم "فعالیت کے اشاریۓ" کا (Activity Index) "اثر گذاری کے اشاریۓ" (Effectivity index) سے موازنہ کریں۔۔۔ جب آپ کے پاس ایک ٹریلین (1000 ارب) ڈالر کا فوجی بجٹ ہو تو توقع یہ ہوتی ہے کہ فوج کی سرگرمی اس کے اثر سے مطابقت رکھتی ہو، لیکن جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں، ایسا نہیں ہے۔
یہ مسئلہ یوکرین کے ذریعے، روس کے خلاف [امریکی] جنگ میں بھی دیکھا جاتا ہے، صہیونیوں کی ـ کئی پڑوسیوں کے خلاف فوجی جارحیتوں اور ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ میں ـ صہیونی ریاست "اسرائیل" کی حمایت میں بھی، دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ سب ثابت کرتا ہے کہ امریکی فوج کی سرگرمیاں اس کے اثرات سے مطابقت نہیں رکھتیں؛ خاص طور پر اگر غیر محسوس عوامل کو مدنظر رکھا جائے؛ مثال کے طور پر سوال یہ ہے کہ: کیا فوج اور عوام سیاسی اور فوجی قیادت پر اعتماد اور بھروسہ کرتے ہیں؟ نہیں؛ وہ نہیں کرتے۔ کیا وہ اس مقصد کے لئے مرنے کو تیار ہیں، بڑھتی ہوئی حد تک، نہیں، وہ تیار نہیں ہیں۔ اور یورپ بھی ایسا ہی ہے۔
اس موڑ پر، ـ جہاں عالمی جغرافیائی-سیاسی نظام بدل رہا ہے ـ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کا یک قطبی نظام، پورے کرہ ارضی میں، اپنی فوجی سیاسی، اقتصادی ۔۔۔ طاقت اور اثر و رسوخ تیزی سے کھو رہا ہے۔ اور یہ نسبی زوال (Relative decline) تیز ہو رہا ہے، کیونکہ جب ایک مرتی ہوئی سلطنت عجز اور بے بسی کا شکار ہو جاتی ہے تو اس سلطنت میں جو چیز سب سے پہلے مرتی ہے وہ جسم نہیں بلکہ دماغ ہوتا ہے: یعنی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی فوجی اور سیاسی قیادت کی صلاحیت اور گنجائش زائل ہوتی ہے۔ اگر ہم ٹرمپ 2.0 [ٹرمپ کی دوسری حکومت] اور اس کے جرائم پیشہ گروہ کو دیکھیں، تو دیکھتے ہیں کہ وہ ہرگز اس قابل نہیں ہیں کہ اس چیلنج کا مقابلہ کر سکیں؛ جیسے 1956 میں نہر سوئز کے بحران میں فرانس اور برطانیہ تھے۔ وہ بھی ابھی تک خود کو عالمی طاقتیں سمجھتے تھے، حالانکہ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ اب عالمی طاقتیں نہیں ہیں۔
امریکہ اب گر رہا ہے اور بہت سے کھلاڑیوں کو اپنے سے دور کر رہا ہے؛ ان کھلاڑیوں سمیت جنہیں وہ پہلے "حلیف" (پڑھیں: "کٹھ پتلی") سمجھتا تھا اور انہیں اپنا محتاج رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ مثال کے طور پرآپ دیکھئے کہ وہ سعودی عرب کو کیسے اپنا محتاج رکھتا تھا؟ "ایران کو قابو کرنے اور سعودی عرب کو خود سے وابستہ رکھنے " ریاض اور صنعاء کے درمیان جنگ چھیڑ کر۔ یہ جنگ سعودیوں کے فائدے میں نہیں تھا، لیکن ادراکی لحاظ سے، سعودی اس جنگ میں شامل ہو کر امریکہ کے محتاج ہو گئے، کیونکہ انہیں ہتھیاروں اور ساز و سامان کی ضرورت تھی (یا انہوں نے سوچا کہ اس کی ضرورت ہے)، اور اس طرح وہ امریکہ کی خواہشات اور احکام کے تابع رہے۔ جیسے ہی سعودیوں کو دکھایا گیا کہ یہ جنگ ان کے فائدے میں نہیں ہے، ہم نے دیکھا کہ کیا ہؤا؛ اور چین نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کیا واقعات رقم کر دیۓ۔
لہٰذا آپ دیکھتے ہیں کہ عالمی شمال سے عالمی جنوب کی طرف تبدیلی اور منتقلی کا یہ عمل تیز ہو رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ عالمی جنوب کو یہ توجہ برقرار رکھنی چاہئے، اور ان دھوکہ دہیوں اور جعلیات کو سمجھنا چاہئے جو معلوماتی اور ادراکی جنگ میں استعمال ہوتی ہیں؛ بشمول ٹرمپ اور ٹرتھ سوشل پر اس کی ہرزہ سرائیاں، کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ "ادراکی معذوری (Cognitive disability) میں مبتلا" ہیں۔ کیونکہ یہ ایک ایسے کند ذہن فرد کے ذہنی اِخراجات اور فکری رساؤ (Mental seepages) ہے جو اپنے ارد گرد کے واقعات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، لیکن بہت مایوس ہے، کیونکہ اسے اب بھی یقین ہے کہ امریکہ ایک سلطنت ہے۔ یہ اس وقت ہو رہا ہے جب ایسے ممالک موجود ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں فعال (Active) بننا چاہتے ہیں، منفعل (Passive) نہیں، اور [امریکی احکامات] سے سرتابی کر رہے ہیں؛ جیسے ایران، جیسے چین، جیسے روس، اور وہ کھلاڑی جن کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔
ٹرمپ صرف یورپی یونین جیسی [تنظیموں اور] کمزور کٹھ پتلی حکومتوں کو ہی برقرار رکھ سکتا ہے جو خود اپنے آپ کو اور اپنی عوام کو ذلیل اور خوار کرتی ہیں، اور ایسی چیز پیش کرتی ہے جسے صرف واشنگٹن کی سلطنت کے سامنے "اندرونی غلامانہ ذہنیت" (Internal Slave mentality) کہا جا سکتا ہے۔ جیسے ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ کے سامنے ایک گولف کورس میں "ارسولا وان ڈیر لیین (Ursula von der Leyen)" کا ہتھیار ڈال دینا۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ گولف کے دو راؤنڈز کے درمیان تھے، فان ڈر لیین نے [ان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر کے] یورپی یونین کی اقتصادی سلامتی کو تباہ کر دیا، جبکہ انہیں ایسا کرنے کا کوئی حق ہی نہیں تھا۔ لہٰذا، میری نظر میں مغربی تہذیب (یا انسداد تہذیب [counter-civilization]) کی ترقی ان دو میں سے کسی ایک کے حوالے کر دی گئی ہے: نیرو (Nero) [1] یا کالیگولا (Caligula) [2] [دوسرے لفظوں میں، "بد اور بدتر"]۔
اما دیگران... حتی اگر آمریکا شما را متحدش بنامند، باز هم تضمینی برای امنیت شما نیست: چنانکه قطر اخیراً متوجه شد. میبینید که امارات هم عضو بریکس میشود. بنابراین امپراتوری آمریکا در حال فروپاشی است و من فقط فروپاشی بیشتر را برایش پیشبینی میکنم. اما این به معنای دست کشیدن امپراتوری از تلاش برای کنترل و فشار علیه کشورهای جنوب جهانی نیست، که میخواهند به عنوان بازیگران فعال در روابط بینالملل یک زندگی محترمانه داشته باشند.
اگر ہم اس بارے میں مختلف ذرائع میں شائع ہونے والی تحریروں کو بھی دیکھیں تو وہ بھی یہی کہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ فوجی توسیع پسندی اور ممالک کا یہ رجحان ـ کہ وہ غیر فعال رہنے کے بجائے فعال کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ـ [امریکی زوال کا سبب بنا ہے]۔ ترکیہ بہت محتاطانہ کھیل کھیل رہا ہے، لیکن دوراہے پر کھڑا ہے۔ لیکن دوسرے۔۔۔ چاہے امریکہ آپ کو اپنا اتحادی کہے، پھر بھی یہ آپ کی سلامتی کی ضمانت نہیں ہے: جیسا کہ قطر کو حال ہی میں احساس ہؤا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات بھی برکس میں شامل ہو رہا ہے۔ لہٰذا امریکی سلطنت زوال پذیر ہے اور میں اس کے لئے صرف مزید زوال کی پیشین گوئی کرتا ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سلطنت عالمی جنوب کے ممالک پر قابو پانے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش ترک کر دے گی، جو بین الاقوامی تعلقات میں باعزت زندگی گذارنے کے لئے فعال کھلاڑی کے طور پر ابھرنا چاہتے ہیں۔
شکریہ
/اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
[1]۔ نیرو کلاڈیئس سیزر آگسٹس جرمنیکس (Nero Claudius Caesar Augustus Germanicus)، جولیو کلاڈیئن (Julio-Claudian) خاندان کا آخری رومی بادشاہ تھا، اس نے 54 عیسوی سے لے کر 68 عیسوی میں اپنی خودکشی تک، حکومت کی۔
[2]۔ گائس سیزر آگسٹس جرمنیکس (Gaius Caesar Augustus Germanicus) المعروف بہ کالیگولا (Caligula) سنہ 37 عیسوی سے سنہ 41 عیسوی میں اپنے قتل تک، روم کا بادشاہ تھا۔
آپ کا تبصرہ